میٹرو بس ، ’’ میں تیرے حسن پہ لکھوں تو کس طرح لکھوں ۔۔۔۔۔(سید ذیشان حیدر)۔‘

نوے کی دہائی کے تقریباً وسط میں جب کبھی لاہور جانے کا اتفاق ہوتا تو جا بجا کھدائی اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے شہر کم اور کھنڈر زیادہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ میاں شہباز شریف کا دور حکمرانی تھا پھر چند سالوں کی محنت کے بعد لاہور کا نقشہ ہی بدل گیا۔ اس دور میں لاہور جا کر معلوم ہوا کہ شاید یہ پاکستان کا شہر ہی نہیں ہے ۔ٹھوکر نیاز بیگ سے لے کر شاہدرہ اور چوبرجی سے لے کر بیدیاں تک لاہور ایک ترقی یافتہ خوشحال اور زندگی سے بھرپور شہر دکھائی دیتا تھا۔ فراٹے بھرتی گاڑیاں , جدید ترین شاپنگ مال , آسمان چھوتی عمارتیں , روزگار میں مصروف شہری , اونچے میناروں اور کشادہ گنبدوں والی مساجد سے اذان کی آوازیں اور تفریح کیلئے جدید پارکس اور بہت کچھ لاہور شہر کو بلاشبہ ترقی یافتہ شہروں کی صف میں لا کھڑا کرتے تھے۔ میاں برادران کے ہی دور حکومت میں موٹر وے جیسا شاہکار بھی تخلیق ہوا آج تک لاہور کی عوام اس ترقی کو یاد کرتے ہیں اور میاں برادران بھی جلسوں میں لوگوں کو یہ ترقی بھولنے کا موقع نہیں دیتے۔

میاں شہباز شریف نے پنجاب کے ’’ خادم اعلیٰ ‘‘ بننے کے بعد ایک سے زائد مرتبہ ترکی کے دورے کئے۔ طیب اردگان(ترکی کے وزیراعظم ) سے ٹیم ورک اور اسٹیبلشمنٹ کے جن کو بوتل میں بند کرنے کا ہنر تو نہ سیکھ سکے مگر ’’ ریپڈ بس سروس ‘‘ کا منصوبہ ضرور ساتھ لے کر آئے اور گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں لاہور کو پہلے ’’ کھنڈر ‘‘ بنایا پھر جدید سہولیات سے آراستہ ’’ بس سروس ‘‘ شروع کر دی گئی ۔ شہباز شریف اور پوری پنجاب حکومت بلاشبہ داد تحسین کے حق دار ہیں۔

دوسری طرف تنقید کرنے والے بھی کہاں رکتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ اس ’’ بس سروس ‘‘ پر70ارب روپے خرچ آیا جبکہ حکومت پنجاب کے مطابق یہ رقم تیس ارب سے بھی کم ہے۔ اس بحث سے قطع نظر میرے نزدیک پیسہ تو ہمیشہ خرچ ہی ہوا کرتا ہے۔ ادھر مگر خیر کا پہلو یہ ہے کہ یہ پیسہ ملک کی ترقی پر ہی خرچ ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک جتنا پیسا اس ’’ میٹرو بس سروس ‘‘ پر خرچ ہوا ہے اگر پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی اسی تناسب سے خرچ ہوتا تو پنجاب بحیثیت مجموعی ایک نسبتاً ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح کے ہنگامی منصوبے تعلیم کیلئے بھی شروع کیئے جانے چاہیئیں تھے۔ اگر گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں ’’ میٹرو بس سروس ‘‘ شروع ہو سکتی ہے تو کیا صوبے کی عوام کو تعلیم کی جدید ترین سہولیات میسر نہیں آ سکتیں ؟۔ شہباز شریف نے بارہا اس بات کو دوہرایا کہ یہ بس سروس امیر اور غریب کے مابین فرق کوختم کر دے گی اور تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں ’’ ہمسفر ‘‘ ہو کر ’’ محمود و ایاز ‘‘ کی طرز پر رخت سفر باندھیں گے۔ مگر پنجاب کے باقی اضلاع خصوصاً جنوبی پنجاب کے لوگ شاید خود کو مزید احساس کمتری کا شکار محسوس کرنے لگے ہیں۔ میری اکثر لوگوں سے بات ہوئی تو مجموعی تاثر یہی تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے دور حکومت کے دوران ملتان شہر میں تعمیراتی کام ضرور کروائے مگر باقی ماندہ جنوبی پنجاب کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ مزید یہ کہ جب سپریم کورٹ نے گیلانی صاحب کو چلتا کیا تب سے اب تک کام کی رفتار ناقابل یقین حد تک سست روی کا شکار ہے۔ گیلانی دور حکومت کے دوران جنوبی پنجاب خصوصا ملتان میں پنجاب حکومت کی طرز پر تنگ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے ملتان شہر کے علاوہ باقی جنوبی پنجاب کا شدید استحصال ہوا۔ مزید ظلم یہ کہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں جو پنجاب کی آبادی کا اکثریتی حصہ ہے کوئی بھی قابل قدر ترقیاتی منصوبہ دکھائی نہیں دیا۔ان دو شہروں سے ہٹ کر خصوصاً دیہی علاقوں کے عوام بنیادی ضروریات زندگی کو ترس رہے ہیں۔
ناس ہو جائیں پل میں جس سے امیران شہر
دل تو کرتا ہے کوئی ایسی بدعا لکھوں۔

اسی طرح لاہور میں ’’ میٹرو بس سروس ‘‘کے آغاز سے میاں شہباز شریف نے اگرچہ لاہوریوں کے دل جیت لئے مگر باقی ماندہ پنجاب کے عوام کی ناراضگی ضرور مول لے لی ہے ۔ اگر جنوبی پنجاب کا ذکر کیا جائے تو یہ بات قابل غور ہے کہ اس خطے میں احساس محرومی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ ابھی تک کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں جانور اور انسان ایک ہی جگہ سے پانی پیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ انتظامی دوہرا معیار اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا شہباز شریف محض لاہور کے وزیراعلیٰ ہیں؟ اگر چھوٹے میاں صاحب لاہور کے میئر یا ناظم اعلیٰ ہوتے تو بلاشبہ اس تمام تر ترقی کا سہرا ان کے سر جانا تھا۔ مگر اب وہ پورے پنجاب یعنی تقریباً60فیصد پاکستانی عوام کے وزیراعلیٰ ہیں تو پنجاب کی اکثر عوام میں یہ تاثر ہے کہ انکی حق تلفی ضرور ہوئی ہے۔

اسی طرح اگر موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پچھلے تقریباً پانچ سالوں کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جائے تو ان دونوں کی بڑی غلطیوں میں سے ایک غلطی بلدیاتی نظام کا خاتمہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں آٹے میں نمک برابر جو اچھے کام ہوئے بلدیاتی نظام ان میں سے سر فہرست تھا۔ ڈسٹرکٹ ناظم کے ہوتے ہوئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو چکے تھے۔ اسی لئے یہ تاثر عام ہے کہ پنجاب حکومت نے باقی اضلاع کے ترقیاتی فنڈز سے حاصل شدہ رقم کو لاہور شہر کے اندر27کلومیٹر لمبی شاہراہ میں جھونک دیا ہے۔ پنجاب کے دیگر اضلاع کے لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ لاہور کے شہروں کیلئے ایئرکنڈیشنڈ بس چلائی جا رہی ہیں۔ (ن) لیگ صدر زرداری کے دو عہدوں پر تنقید کرتے نہیں تھکتی کہ صدر پاکستان کی کسی بھی پارٹی کے ساتھ سیاسی وابستگی عہدہ صدارت کے شایان شان نہیں تو کیا وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے باقی پنجاب کے وسائل سے محض ایک شہر میں ترقیاتی کام کروانا وزارت اعلیٰ کے منصب کے شایان شان ہے ؟

اسی طرح اگر نواز لیگ کی سیاسی حکمت عملی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ تحریک انصاف کے آجانے کے بعد محض’’ رد عمل ‘‘ کی سیاست بن چکی ہے۔ ہر ترقیاتی کام کسی نہ کسی رد عمل کے طور پر ہی کیا گیا ہے۔ جب تحریک انصاف نے لاہور میں جلسہ کرکے نوجوانوں میں خصوصاً اپنی پسندیدگی کو ثابت کیا تو اس کے جواب میں لیپ ٹاپ اور انٹرن شپ سکیمیں متعارف کروادی گئیں۔ خان صاحب کے سپورٹس مین امیج کا بھرپور جواب خادم اعلیٰ نے ٹریک سوٹ زیب تن کر کے دیا۔ تحریک انصاف کے جلسوں کی موسیقی کو یوتھ فیسٹیول اور خادم اعلیٰ کی پرسوز ترنم کے ساتھ ادا کئے گئے نغموں سے مقابلہ کیا گیا۔اسی طرح جب پنجاب کی عوام شہنشاہ ثانی , خادم اعلیٰ کے منظور نظر شہر لاہور کی تاج محل نما بس سروس کا باقی پنجاب میں میسر بنیادی ضروریات سے موازنہ کچھ اس انداز سے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
میری گلیوں میں صبح شام بھوک ناچتی ہے
میں تیرے حسن پہ لکھوں تو کس طرح لکھوں

Please Share "Health is Wealth"

Share to Google Plus
Share to LiveJournal
[Total: 0    Average: 0/5]

Comment if you like this